Skip to content
مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے جوابات کا مجموعہ

ختم نبوت

سوال: میرے ایک دوست ہیں جو مجھ سے بحث کیا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ان کے ایک رشتہ دار جو مرزائی ہیں ان کو اپنی جماعت کی دعوت دیتے ہیں مگر وہ میرے دوست ان کے سوال کا جواب پوری طرح نہیں دے سکتے۔انہوں نے مجھ سے ذکر کیا۔ میں خود تو جواب نہ دے سکا۔ البتہ میں نے ایک صاحب علم سے اس کا جواب پوچھا۔ مگر کوئی ایسا جواب نہ ملا جس سے کہ میری اپنی ہی تسلی ہوجاتی۔ اس لیے اب آپ سے پوچھتا ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ مرزائی حضرات لفظ ’’خاتم‘‘ کے معنی نفی کمال کے لیتے ہیں نفی جنس کے نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خاتم کا لفظ کہیں بھی نفی جنس کے ساتھ استعمال نہیں ہوا اگر ہوا ہو تو مثال کے طور پر بتایا جائے۔ ان کا چیلنج ہے کہ جو شخص عربی لغت میں خاتم کے معنی نفی جنس کے دکھادے اس کو انعام ملے گا۔ نفی کمال کی دو مثالیں وہ یہ دیتے ہیں کہ مثلاً کسی کو خاتم الاولیاء کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ولایت اس پر ختم ہوگئی، بلکہ حقیقی مطلب یہ ہوتا ہے کہ ولایت کا کمال اس پر ختم ہوا۔ اقبال کے اس فقرے کو بھی وہ نظیر میں پیش کرتے ہیں:

علم غیب رسل

سوال: ایک عالم دین نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’’رسول کو عالم غیب سے وہی باتیں بتائی جاتی ہیں جن کو اللہ ان کے توسط سے اپنے بندوں کے پاس بھیجنا چاہتا ہے۔‘‘ استدلال میں یہ آیت پیش کی ہے۔ عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٓ اَحَدًاO اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّہٗ یَسْلُکُ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ رَصَدًاO لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمْ(الجن:26-27-28) یعنی’’وہ غیب کا عالم ہے اور وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلق نہیں کرتا سوائے اس رسول کے جس کو اس نے چن لیا ہو، پھر وہ اس کے آگے اور…

دہریت ومادہ پرستی اور قرآن مجید

سوال: آپ نے اپنی کتاب’’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘‘ میں اصلاحات اربعہ کے جو معنی بیان کیے ہیں ان سے جیسا کہ آپ نے خود ذکر فرمایا ہے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ دنیا میں کوئی قوم ایسی نہ تھی جس کی طرف نبی بھیجا گیا ہو اور اس نے اسے خدا کی ہستی کو تسلیم کرنے یا خدا کو الہٰ و رب و معنی خالق ورازق ماننے کی دعوت دی ہو۔ کیونکہ ہر قوم اللہ کے فاطروخالق ہونے کا اعتقاد رکھتی تھی۔اس سے بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں میں منکرین خدا یعنی مادہ پرست ملحدین اور…

لہ‘ ماسلف کی تفسیر

سوال: تفہیم القرآن میں حرمت سود والی آیت فَمَنْ جَآئَ ہٗ مَوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ فَانْتَہٰی فَلَہٗ مَا سَلَفَط(بقرہ۔۳۸) پر حاشیہ لکھتے ہوئے جناب نے جو استدلال فرمایا ہے اس پر مجھے اطمینان نہیں ہے آپ کے الفاظ یہ ہیں کہ’’وہ شخص جو پہلے کے کمائے ہوئے مال سے بدستور لطف اٹھاتا رہا تو بعید نہیں کو وہ اپنی اس حرام خوری کی سزا پا کر رہے۔‘‘ سوال یہ ہے کہ سود کے حرام ہونے پر صحابہ کرامؓ نے کیا عمل فرمایا؟ اگر انہوں نے اخلاقی حیثیت کی بنا پر مستحقین کو مال واپس کیا ہے تو آپ کا استدلال صحیح…

اتباع علماء و صلحاء

سوال: ایک عالم دین اپنی کتاب میں فرماتے ہیں کہ ’’شرک کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ علماء اور صلحاء کو امام اور ہادی مان کر ان کے اقوال کو اللہ کے قول کی طرح بلا سند تسلیم کیا جائے۔‘‘ پھر فرماتے ہیں کہ ’’آئمہ سلف اور بزرگان دین کے علوم اور حالات سے علمی اور تاریخی فائدے حاصل کیے جاسکتے ہیں لیکن ان کے کسی قول کو بلا قرآنی سند کے دین ماننا شرک ہے۔‘‘لیکن ایک اور مقام پر لکھتے ہیں ’’کتاب اللہ کو چھوڑ کر بزرگوں کی پیروی کرنا گمراہی ہے۔‘‘آگے چل کر پھر فرماتے ہیں کہ’’رسول…

قرآن وحدیث اور سائنٹیفک حقائق

سوال: قرآن وحدیث میں بہت سے ایسے امور بیان ہوئے ہیں جنہیں زمانہ حال کی تحقیقات غلط قرار دیتی ہیں۔اس صورت میں قرآن وحدیث کو مانیں یا علمی تحقیق کو؟مثلاً الف۔قرآن کہتا ہے کہ نوع انسانی آدمؑ سے پیدا ہوئی، بخلاف اس کے علمائے دور حاضر کا دعویٰ یہ ہے کہ انسان حیوانات ہی کےکنبے سے تعلق رکھتا ہے اور بندروں اور بن مانسوں سے ترقی کرتے کرتے آدمی بنا ہے۔ ب۔ قرآن کا دعویٰ یہ ہے کہ آفتاب حرکت کرتا ہے مگر سائنس کہتی ہے کہ نہیں، آفتاب ساکن ہے۔ ج۔اسی طرح بادلوں میں جو کڑک اور چمک ہوتی…

تحقیق حدیث دجال

سوال: ترجمان القرآن میں کسی صاحب نے سوال کیا تھا کہ ’’کانے دجال کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کہیں مقید ہے، تو آخر وہ کونسی جگہ ہے؟ آج دنیا کا کونہ کونہ انسان نے چھان مارا ہے۔ پھر کیوں کانے دجال کا پتہ نہیں چلتا؟‘‘ اس کا جواب آپ کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ ’’کانا دجال وغیرہ تو افسانے ہیں جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے‘‘۔ لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے، کم از کم تیس روایات میں دجال کا تذکرہ موجود ہے، جس کی تصدیق بخاری شریف، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، شرعی السنہ بیہقی کے ملاحظہ سے کی جاسکتی ہے۔ پھر آپ کا جواب کس سند پر مبنی ہے؟

بہانہ جوئی کے لیے روایات کے سہارے

سوال: میں نے اپنے بعض اعزہ اور بزرگوں کی خدمت میں فریضہ اقامت دین کی اہمیت واضح کرنے کی کوشش شروع کر رکھی ہے۔ اس سلسلہ میں میرا تبادلہ خیال ایک ایسے رشتہ دار سے ہوا جو اصطلاحی علم بھی رکھتے ہیں۔ اقامت دین کے فرض کی اہمیت کے بھی منکر نہیں۔ مگر ادائے فرض کے لیے آمادہ ہوجانے کے بجائے جہلا کے سے عذرات پیش کرتے ہیں۔ ان کے پیش نظر یہ حدیث ہے کہ: اذ ارایت شحاً مطاعاً وھویً متبعاً واعجاب کل ذی رأی برایہٖ فعلیک بخویصہ نفسک۔ اس سے استدلال کرکے وہ اپنے آپ کو ادائے فرض…

المہدی کی علامات اور نظام دین میں اس کی حیثیت

سوال: ظہور مہدی کے متعلق آپ نے رسالہ تجدید و احیاء دین میں جو کچھ لکھا ہے اس میں اختلاف کا پہلو یہ ہے کہ آپ مہدی موعود کے لیے کوئی امتیازی و اختصاصی علامت تسلیم نہیں کرتے، حالانکہ احادیث میں واضح طور پر علامت مہدی کا تذکرہ ہے۔ آخر اس سلسلہ روایات سے چشم پوشی کیسے کی جاسکتی ہے؟ جواب: ظہور مہدی کے متعلق جو روایات ہیں، ان کے متعلق ناقدین حدیث نے اس قدرتردیدکی ہے کہ ایک گروہ سرے سے اس بات کا قائل نہیں رہا ہے کہ امام مہدی کا ظہور ہوگا۔ اسماء الرجال کی تنقید سے…

مسئلہ مہدی

سوال: چند حضرات نے جو نہایت دین دار اور مخلص ہیں تجدید و احیائے دین کی ان سطور کے متعلق جو آپ نے امام مہدی کے متعلق تحریر فرمائی ہیں،احادیث کی روشنی میں اعتراضات پیش فرمائے ہیں جنہیں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔یہ میں اس احساس کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ دعوت اقامت دین کے پورے کام میں شریعت کی پابندی ضروری ہے،پس لازم ہے کہ ہر وہ چیز جو آپ کے قلم سے نکلے، عین شریعت کے مطابق ہو اور اگر کبھی کوئی غلط رائے تحریر میں آئے تو اس سے رجوع کرنے میں کوئی تامل…

Back To Top
Search