Skip to content
مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے جوابات کا مجموعہ

قتل خطا اور اس کے احکام

سوال: ایک پنساری نے غلطی سے ایک خریدار کو غلط دوا دے دی جس سے خریدار خود بھی ہلاک ہوگیا اور دو معصوم بچے (جن کو خریدار نے وہی دوا بے ضرر سمجھ کر دے دی تھی) بھی ضائع ہوئے۔ یہ غلطی پنساری سے بالکل نادانستہ ہوئی۔ خون بہا اور خدا کے ہاں معافی کی اب کیا سبیل ہے؟ نیز یہ کہ خون بہا معاف کرنے کا کون مجاز ہے؟

رشوت اور اضطرار

سوال: (۱) حالت اضطرار کیا ہے؟ کیا اضطرار کے بھی حالات اور ماحول کے لحاظ سے مختلف درجات ہیں؟(۲) موجودہ حالات اور موجودہ ماحول میں کیا مسلمانوں کے لیے کسی صورت میں بھی رشوت جائز ہوسکتی ہے؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے رشوت کی ایک جامع تعریف بھی بیان کردیجیے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کس قسم کے معاملات رشوت کی تعریف میں آتے ہیں؟

دارالکفر میں مسلمانوں کی مشکلات

سوال: برطانیہ کے قیام کے دوران میں احکام شریعت کی پابندی میں مجھے مندرجہ ذیل دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ براہ کرم صحیح رہنمائی فرماکر ممنون فرمائیں۔(۱) پہلی دقت طہارت اور نماز کے بارے میں ہے۔ مجھے سویرے نو بجے اپنے ہوٹل سے نکلنا پڑتا ہے۔ اب اگر شہر میں گھومتے ہوئے رفع حاجت کی ضرورت پڑے تو ہر جگہ انگریزی طرز کے بیت الخلاء بنے ہوئے ہیں، جہاں کھڑے ہو کر پیشاب کرنا پڑتا ہے۔ اس سے کپڑوں پر چھینٹیں پڑنا لازمی ہے۔ اجابت کے لیے کاغذ میسر ہوتے ہیں، ایک بجے ظہر کا وقت ہوتا ہے۔ اس وقت پانی کسی عام جگہ دستیاب نہیں ہوسکتا اور بندرگاہ تک آنے جانے کے لیے زحمت کے علاوہ کم از کم ایک شلنگ خرچ ہوجاتا ہے۔ نماز کے لیے کوئی پاک جگہ بھی نہیں مل سکتی۔ ہوٹل میں گو پانی اور لوٹا میسر ہیں مگر پتلون کی وجہ سے استنجا نہیں ہوسکتا، البتہ وضو کیا جاسکتا ہے، مگر اس میں بھی یہ دقت ہے کہ پانی زمین پر نہ گرے۔ ہاتھ دھونے سے لے کر سر کے مسح تک تو خیر باسن (انگریزی بیسن) میں کام ہوجاتا ہے۔ لیکن پاؤں دھونے کے لیے باسن پر رکھنے پڑتے ہیں جو یہاں کی معاشرت کے لحاظ سے نہایت معیوب ہے۔

جرابوں پر مسح

سوال: موزوں اور جرابوں پر مسح کے بارے میں علما میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ میں آج کل تعلیم کے سلسلے میں اسکاٹ لینڈ کے شمالی حصے میں مقیم ہوں۔ یہاں جاڑے کے موسم میں سخت سردی پڑتی ہے اور اونی جراب کا ہر وقت پہننا ناگزیر ہے۔ کیا ایسی جراب پر بھی مسح کیا جاسکتا ہے؟ براہ نوازش اپنی تحقیق احکام شریعت کی روشنی میں تحریر فرمائیں؟

قطبین کے قریب مقامات میں نماز روزے کے اوقات

سوال: میرا ایک لڑکا ٹریننگ کے سلسلے میں انگلستان گیا ہوا ہے، آج کل وہ ایک ایسی جگہ قیام رکھتا ہے جو قطب شمالی سے بہت قریب ہے۔ وہ نمازوں اور روزوں کے اوقات کے لیے ایک اصولی ضابطہ چاہتا ہے۔ بارش، بادل اور دھند کی کثرت سے وہاں سورج بالعموم بہت کم دکھائی دیتا ہے۔ کبھی دن بہت بڑے ہوتے ہیں، کبھی بہت چھوٹے۔بعض حالات میں طلوع آفتاب اور غروب آفتاب میں بیس گھنٹے کا فصل ہوگیا ہے۔ تو کیا ایسی صورت میں بیس گھنٹے یا اس سے زائد روزہ رکھنا ہوگا؟

برطانیہ میں ایک مسلمان طالب علم کی مشکلات

سوال: یہاں آکر میں کچھ عجیب سی مشکلات میں مبتلا ہوگیا ہوں۔ سب سے زیادہ پریشانی کھانے کے معاملے میں پیش آرہی ہے۔ اب تک گوشت سے پرہیز کیا ہے۔ صرف سبزیوں پر گزارہ کر رہا ہوں۔ سبزی بھی یہاں آپ جانتے ہیں کہ صرف ابلی ہوئی ملتی ہے اور وہ بھی زیادہ تر آلو۔ انڈہ یوں بھی کمیاب ہے اور پھر اس پر راشن بندی ہے، ہفتے میں دو تین انڈے مل سکتے ہیں۔ ڈاکٹر عبد اللہ صاحب امام ورکنگ مسجد(لندن) سے ملا۔ انہوں نے یہ بتایا کہ کلام پاک کی رو سے ایک تو سور کا گوشت حرام ہے، دوسرے خون، تیسرے مردار اور چوتھے وہ جانور جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کے نام پر ذبح کیا جائے۔ پھر انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں تک یہاں کے طریقہ ذبح کا تعلق ہے، اس سے شہ رگ کٹ جاتی ہے اور سارا خون نکل جاتا ہے۔ چوں کہ اس خون کا نکلنا طبعی نقطہ نظر سے ضروری ہے، لہٰذا اس کا یہاں خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ البتہ یہ ضرور صحیح ہے کہ گردن پوری طرح الگ کردی جاتی ہے، لیکن کلام پاک میں اس سلسلے میں کوئی ممانعت وارد نہیں۔ دوسرے یہ کہ یہاں جانور کسی کے نام پر ذبح نہیں کیے جاتے، بلکہ وہ تجارتی مال کی حیثیت سے سینکڑوں کی تعداد میں روزانہ ذبح ہوتے ہیں۔ اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اللہ کا نام تو نہیں لیا جاتا لیکن کسی اور کا بھی نام نہیں لیا جاتا۔ پس وہ غیر اللہ سے منسوب نہ ہونے کی وجہ سے کھایا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں ان سے بہت دیر بحث رہی مگر طبیعت نہیں مانتی کہ یہ گوشت جائز ہوسکتا ہے۔

ختم نبوت کے خلاف قادیانیوں کی ایک اور دلیل

سوال: ’’تفہیم القرآن‘‘ (سورہ آل عمران صفحہ ۲۶۸، ع۔۹)، آیت وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّيْنَ …الخ کی تشریح کرتے ہوئے آپ نے حاشیہ نمبر ۶۹ یوں درج کیا ہے کہ ’’یہاں اتنی بات اور سمجھ لینی چاہئے کہ حضرت محمدؐ سے پہلے ہر نبی سے یہی عہد لیا جاتا رہا ہے اور اسی بنا پر ہر نبی نے اپنی امت کو بعد کے آنے والے نبی کی خبر دی ہے اور اس کا ساتھ دینے کی ہدایت کی ہے۔ لیکن نہ قرآن میں، نہ حدیث میں، کہیں بھی اس امر کا پتہ نہیں چلتا کہ حضرت محمدؐ سے ایسا عہد لیا گیا ہو، یا آپؐ نے اپنی امت کو کسی بعد کے آنے والے نبی کی خبر دے کر اس پر ایمان لانے کی ہدایت فرمائی ہو‘‘۔

اہل سنت اور اہل تشیع کا اختلاف

سوال: میں نے ایک دین دار شیعہ عزیز کی وساطت سے مذہب شیعہ کی بکثرت کتب کا مطالعہ کیا ہے۔ شیعہ سنی اختلافی مسائل میں سے جو اختلاف نماز کے بارے میں ہے ، وہ میرے لیے خاص طور پر تشویش کا باعث ہے۔ میں اپنے شکوک آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ تفصیلی جواب دے کر ان کا ازالہ فرمائیں۔میرے شبہات نماز کی ہئیت قیام سے متعلق ہیں۔ نماز اولین رکن اسلام ہے۔ لیکن حیرت ہے کہ قیام میں ہاتھ باندھنے یا چھوڑ دینے کے بارے میں آئمہ اربعہ کے مابین اختلاف ہے اور پھر افسوس اس امر کا ہے کہ ارشاد نبوی ﷺ ’’انی تارک فیکم الثقلین، کتاب اللہ وعترتہ‘‘ کے باوجود آئمہ اہل سنت نے رفع اختلافات کے لیے اہل بیت کی طرف رجوع نہیں کیا، حالاں کہ امام اعظم ؒ اور امام مالک ؒ ، امام جعفر صادق ؒ کے معاصر بھی تھے۔ اس طرح رسول اللہﷺ کے گھر والوں کو چھوڑ کر دین کے سارے کام کو غیر اہل بیت پر منحصر کردیا گیا اور مسائل دین میں اہل بیت سے تمسک کرنا تو درکنار ان سے احادیث تک نہیں روایت کی گئیں، حالاں کہ بقول ’’صاحب البیت ادری بما فی البیت‘‘ دین کا اصل ماخذ آئمہ اہل بیت تھے۔ امام ابو حنیفہؒ و امام مالکؒ کا انحصار محض روایات پر تھا۔ برعکس اس کے امام جعفر صادقؒ نے اپنے والد امام باقر ؒ کو، انہوں نے زین العابدین ؒ کو اور انہوں نے حسینؒ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کو وہ قیام میں کیسے کھڑے ہوتے تھے۔ شنیدہ کے بودما ننددیدہ۔ آئمہ اہل بیت کی طرف اسی عدم رجوع کا نتیجہ ہے جو اہل سنت کے اختلافات کی شکل میں رونما ہوا ہے۔

اختلاف کے جائز حدود

سوال: تحریک کا ہمدرد ہونے کی حیثیت سے اس کے لٹریچر اور جرائد واخبارات کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔ اب تک بزرگان دیو بند اور دوسرے علما کی طرف سے جو فتوے شائع ہوتے رہتے ہیں اور ان کے جو جوابات امیر جماعت ہند و امیر جماعت پاکستان و دیگر اراکین جماعت کی طرف سے دیے گئے ہیں، سب کو بالالتزام پڑھتا رہتا ہوں۔ اپنے بزرگوں کی اس حالت کو دیکھ کر بہت صدمہ ہوتا ہے مگر سوائے افسوس کے اور چارہ کوئی نظر نہیں آتا۔

شفاعت کا صحیح تصور

سوال: کسی مولوی صاحب نے ایک اشتہار شائع کیا ہے جس میں آپ پر معتزلی اور خارجی ہونے کا فتویٰ لگایا ہے۔ بنائے فتویٰ یہ ہے کہ آپ نبی کریم ﷺ کی طرف سے قیامت کے روز امت کے بارے میں شفاعت کے منکر ہیں۔ اس کا حوالہ ترجمان القرآن جلد ۲۶، عدد ۱، ۲ صفحہ ۳۰ سے لیتے ہوئے آیت ’’جنگ کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں لاتے‘‘ کے تشریحی نوٹ کا دیا ہوا ہے۔ یہ نوٹ یوں ہے : ’’وہاں کوئی سعی سفارش، کوئی فدیہ اور کسی بزرگ سے منتسب ہونا کام نہ آئے گا‘‘۔ اسی طرح تفہیمات سے بھی کوئی حوالہ اسی قسم کا اخذ کیا ہے۔براہ کرم آپ بیان فرمائیں کہ اہل سنت کا عقیدہ شفاعت کے بارے میں کیا ہے۔ نبی ﷺ اپنی امت کی شفاعت کس حیثیت سے کریں گے، نیز آیا وہ ساری امت کی طرف سے شفیع ہوں گے؟

Back To Top
Search