سوال: میں نے ایسے ماحول میں پرورش پائی ہے جہاں اٹھنے بیٹھنے کے آداب سے لے کر زندگی کے بڑے مسائل تک ہر بات میں شریعت کی پابندی ہوتی رہی ہے اور میں اب کالج میں تعلیم پا رہا ہوں۔ ماحول کی اس اچانک تبدیلی سے میں عجیب کشمکش میں مبتلا ہوگیا ہوں۔ بعض غیر اسلامی حرکات مجھ سے سرزد ہوگئی ہیں۔ جب کبھی ایسی کوئی حرکت ہوئی، ضمیر نے ملامت کی اور اللہ تعالیٰ سے عفو کا طالب ہوا۔ مگر پھر برے اثرات ڈالنے والوں کے اصرار اور شیطانی غلبہ سے اس حرکات کا مرتکب ہوگیا۔ اس طرح بار بار توبہ کرکے اسے توڑ چکا ہوں۔ اب اگر چہ اپنی حد تک میں نے اپنی اصلاح کرلی ہے اور بظاہر توقع نہیں کہ میں پھر اس گناہ میں مبتلا ہوں گا، لیکن یہ خیال با ر بار ستاتا ہے کہ کیا میرے وہ گناہ معاف ہوجائیں گے جو میں نے توبہ توڑ کر کیے ہیں؟ نیز یہ بتائیں کہ توبہ توڑنے کا کفارہ کیا ہے؟ اور یہ کہ توبہ شکنی کا علاج کیاہے؟