Skip to content
مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے جوابات کا مجموعہ

نماز کا مسنون طریقہ

سوال: میں پہلے نماز ادا کرنے کی سعادت سے محروم تھا، لیکن الحمد للہ کہ اب نماز ادا کرتا ہوں۔ مجھ کو اس بارے میں بڑی پریشانی درپیش ہے۔ میں جس بستی میں تعلیم پا رہا ہوں وہاں کے لوگ دیو بندی حنفی ہیں اور میرے گاؤں کے لوگ اہل حدیث ہیں۔ اب اگر میں نماز اہل حدیث کے طریقے پر ادا کرتا ہوں تو بستی کے لوگ مجھے وہابی کہہ کر پریشان کرتے ہیں اور جب حنفی طریقے پر پڑھتا ہوں تو گاؤں کے لوگ مجھے مقلد ہونے کا طعنہ دے دیتے ہیں۔ چوں کہ مجھے آپ پر اعتماد ہے، لہٰذا اس معاملے میں آپ سے رہنمائی چاہتا ہوں۔سوال یہ ہے کہ آخر رسول اللہ ﷺ نے تو نماز ایک ہی طریقے پر پڑھی ہوگی، پھر یہ مختلف فرقوں کے مختلف طریقوں کا اسلام میں کیا مقام ہے؟ میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کون سا فرقہ آنحضرت ﷺ کے طریق پر نماز ادا کرتے ہیں اور میں کس مسلک پر رہوں۔ یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ خود آپ کس طریق پر نماز ادا کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں دیہات میں نماز جمعہ ادا کرنی چاہیے یا نہیں؟

’’خدا اندر قیاس مانہ گنجد‘‘

سوال: کچھ عرصہ ہوا ایک دوست کے ساتھ میری بحث ہوئی۔ سوال یہ تھا کہ خدا ہے یا نہیں؟ اور ہے تو وہ کہاں سے آیا؟ ہم دونوں اس معاملے میں علم نہیں رکھتے تھے، لیکن پھر بھی میں سوال کے پہلے جزو کی حد تک اپنے مخاطب کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہوگیا، لیکن دوسرے جز کا کوئی جواب مجھ سے بن نہ آیا۔ چنانچہ اب یہ سوال خود مجھے پریشان کر رہا ہے؟ایک موقع پر میری نظر سے یہ بات گزری ہے کہ نبی ﷺ سے بھی یہ سوال کیا گیا تھا، اور آپ ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ کچھ باتیں انسان کے سوچنے اور سمجھنے سے باہر ہوتی ہیں، اور یہ سوال بھی انہی میں شامل تھا۔ میں بہت کوشش کرتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے اس فرمودہ سے اطمینان حاصل کروں، لیکن کامیابی نہیں ہوتی۔ براہ کرم آپ میری مدد فرمائیں۔میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ انسان کو صحیح معنوں میں انسان بننے کے لیے کن کن اصولوں پر چلنا چاہیے؟

ایمان اور عمل کا تعلق

سوال: آئمہ سلف میں اس مسئلے کے بارے میں بہت اختلاف رہا ہے کہ عمل صالح ایمان کا جزہے یا نہیں۔ میں نے قرآن و حدیث و سیرت کا بھی مطالعہ کیا ہے، اپنی حد تک آئمہ کے اقوال و استدلال کو بھی دیکھا ہے اور اپنے اساتذہ اور بزرگوں سے بھی رجوع کیا ہے لیکن اس سوال کا شافی جواب حاصل کرنے میں ناکام رہا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ بعض لوگوں نے محض اختلافات کو ہوا دینے کے لیے اس مسئلے کو چھیڑا ہے۔ لیکن میرا مقصد سوائے تحقیق و اطمینان کے کچھ نہیں ہے۔

ایک نوجوان کے چند سوالات

سوال: (۱) ہمیں یہ کیونکر معلوم ہو کہ ہماری عبادت خامیوں سے پاک ہے یا نہیں اور اسے قبولیت کا درجہ حاصل ہورہا ہے یا نہیں؟… قرآن و حدیث کے بعض ارشادات جن کا مفہوم یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو روزے میں بھوک پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، بہت سے لوگ اپنی نمازوں سے رکوع و سجود کے علاوہ کچھ نہیں پاتے، یا یہ کہ جو کوئی اپنے عابد سمجھے جانے پر خوش ہو نہ صرف اس کی عبادت ضائع ہوگئی بلکہ وہ شرک ہوگی اور اس طرح سے دیگر تنبیہات جن میں سے عبادت کے لیے بے صلہ ہوجانے اور سزا دہی کی خبر دی گئی ہے، دل کو نا امید و مایوس کرتی ہیں۔

مسلم سوسائٹی میں منافقین

سوال: اسلام کیخلاف دو طاقتیں ابتدا ہی سے برسر پیکار چلی آرہی ہیں۔ ایک کفر اور دوسری نفاق۔ مگر کفر کی نسبت منافق زیادہ خطرناک دشمن ثابت ہوا ہے کیونکہ وہ مار آستین ہے جو ماتھے پر اخوت اور اسلام دوستی کا لیبل لگا کر مسلمانوں کی بیخ کنی کرتا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ اگرچہ کافر اور منافق دونوں ہی بالآخر جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں، لیکن منافق کی سزا کچھ زیادہ ہی ’’بامشقت‘‘ بتائی گئی ہے۔ ’’بیشک منافق جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے۔‘‘ (نساء:۲۱) اسی گروہ کے متعلق خدا تعالیٰ نے یوں دو ٹوک فیصلہ کردیا ہے کہ ’’اے پیغمبرؐ ! ان منافقوں کے حق میں تم خواہ دعائے مغفرت کرو یا نہ کرو (برابر ہے کیونکہ) چاہے تم 70 مرتبہ ہی مغفرت کے لیے دعا کیوں نہ کرو، تب بھی اللہ تعالیٰ انہیں کبھی معاف نہیں کریگا۔‘‘ (توبہ: ۱۰) کم و بیش 60 مختلف علامات اور امتیازی نشانیاں منافقین کی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بیان فرمائی ہیں، جن کی روشنی میں ہم پاکستان کے اندر بسنے والی اس قوم کو جب دیکھتے ہیں جو مسلمان کہلاتی ہے تو اکثریت بلا مبالغہ منافقین کی نظر آتی ہے… گناہ گار مسلمان اس گروہ منافقین میں شامل نہیں… مگر گناہ گار مسلمان وہ ہے جس سے برائی کا فعل باقتصائے بشریت جب کبھی سرزد ہوجاتا ہے تو فوراً ہی اللہ اور قیامت کا خیال اسے آجاتا ہے۔ سچے دل سے توبہ اور پشیمانی کا اظہار کرتا ہے اور آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کرلیتا ہے۔ منافقین اس کے خلاف اپنے برے کاموں پر واقعی نادم ہونے کی بجائے دانستہ کیے جاتے ہیں۔

نیکی کی راہ میں مشکلات کیوں؟

سوال: آج سے ایک سال قبل دنیا کے جملہ افعال بد سے دوچار تھا، لیکن دنیا کی بہت سی آسانیاں مجھے حاصل تھیں۔ میں نہ کسی کا مقروض تھا اور نہ منت کش اور اب جبکہ میں ان تمام افعال بد سے تائب ہو کر بھلائی کی طرف رجوع کرچکا ہوں، دیکھتا ہوں کہ ساری فارغ البالی ختم ہوچکی ہے اور روٹی تک سے محروم ہوں۔ سوال یہ ہے کہ اچھے اور نیک کام کرنے والوں کے لیے دنیا تنگ کیوں ہوجاتی ہے اوراگر ایسا ہے تو لوگ آخر بھلائی کی طرف کا ہے کو آئیں گے؟ یہ حالت اگر میرے لیے آزمائش ہے کہ سرمنڈاتے ہی اولے پڑے تو یہ منزل میں کس طرح پوری کروں گا؟

تصوف اور تصور شیخ

سوال: میں نے پورے اخلاص و دیانت کیساتھ آپ کی دعوت کا مطالعہ کیاہے۔ باوجود سلفی المشرب ہونے کے آپ کی تحریک اسلامی کا اپنے آپ کو ادنیٰ خادم اور ہمدرد تصورکرتا ہوں۔ حال ہی میں چند چیزیں تصوف اور تصور شیخ سے متعلق نظر سے گزریں جنہیں پڑھ کر میرے دل و دماغ میں چند شکوک پیدا ہوئے ہیں۔ آپ عجمی بدعات کو مباح قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ اب تک کا سارا لٹریچر ان کے خلاف زبردست احتجاج رہا ہے۔ جبکہ ہماری دعوت کا محور ہی فریضہ اقامت دین ہے تو اگر ہم نے خدانخواستہ بدعت کو انگیز کیا تو اسکے معنی یہ ہونگے کہ ساری بدعت کو تحریک میں گھس آنے کا موقع دیدیا گیا۔ آپ براہِ کرم میری ان معروضات پر غور کرکے بتائیے کہ کتاب و سنت کی روشنی میں تصوف اور تصور شیخ کے متعلق آپکے کیا خیالات ہیں اور فی نفسہ یہ مسلک کیا ہے؟ امید ہے کہ ترجمان القرآن میں پوری وضاحت کرکے مشکور فرمائیں گے۔

فرد اور جماعت کی کشمکش

سوال:فرد اور سوسائٹی کے باہمی تعلقات کی نسبت مندرجہ ذیل خیال اسلامی نقطہ نظر سے کہاں تک صائب ہے؟’’شہد کی مکھیوں، چونٹیوں اور دیمک کے برعکس انسان معاشرے میں زندگی گزارنے کے لیے نہیں بنایا گیا ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ حد تک ایک فرد ہے۔ بدرجہ آخر یوں سمجھ لیجیے کہ وہ گلوں میں بٹ کر جینے کی جبلت رکھتا ہے۔ یہی راز ہے فرد اور معاشرے کے غیر مختتم تصادم کا! کوئی مذہب عدم توافق کی اس گرہ کو کھولنے پر قادر نہیں ہے کیوں کہ یہ گرہ کھلنے والی ہے ہی نہیں! کیا خود قرآن مجید نے نہیں کہا کہ ہم نے انسان کو احسن تقویم پر پیدا ۔(التین: ۴)اور پھر اسی کے ساتھ یہ بھی … کہ ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا۔(البلد:۴) میری رائے میں ان آیات کی بہترین تاویل یہ ہے کہ ایک مشین… نظام جسمانی… کی حیثیت سے آدمی اشرف المخلوقات ہے۔ لیکن معاشرے کا رکن ہونے کی حیثیت سے وہ معاشرے کے ساتھ ہمہ وقت متصادم رہنے والا ہے‘‘۔

اسلام میں غلامی کو قطعاً ممنوع کیوں نہ کردیا گیا؟

سوال :غلامی سے متعلق اسلام میں ضوابط ایسے مقرر کیے گئے ہیں جن سے شبہ ہوتا ہے کہ اس ادارے کو مستقل طور پر باقی رکھنا مقصود ہے، مگر دوسری طرف ایسے احکام بھی موجود ہیں جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کو کوئی پسندیدہ چیز نہیں سمجھا گیا تھا بلکہ غلاموں کی رہائی اور آزادی ہی محبوب و مرغوب تھی۔ سوال یہ ہے کہ جب غلامی مکروہ اور آزادی مرغوب تھی تو اس طریقے کو ممنوع کیوں نہیں کردیا گیا؟

محرمات کی حرمت کی وجوہ

سوال: چند روز سے رفقاء کے درمیان محرمات کے سلسلے میں ایک مسئلہ زیرِ بحث ہے جو میں ذیل میں تحریر کرتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ ازراہِ کرم اس پر روشنی ڈال کر مشکور فرمائیں گے۔مناکحت کے سلسلے میں ایک عورت اور دوسری عورت میں کیوں امتیاز کیا گیا ہے کہ بعض کو عقد میں لایا جاسکتا ہے اور بعض محرمات کی فہرست میں آتی ہیں؟ اگرچہ ابتدائے انسانیت میں ایسی کوئی قید نظر نہیں آتی ہے جیسا کہ ہابیل اور قابیل کے قصے سے معلوم ہوتا ہے۔ اس میں کیا حکمت ہے؟ کیا اس قسم کی شادیاں حیاتیاتی مفاسد کا موجب بھی بن سکتی ہیں؟امید ہے کہ آپ اس کا جواب ترجمان القرآن میں شائع فرمادیں گے تاکہ دیگر حضرات کے لیے بھی استفادے کا باعث ہو۔

Back To Top
Search