Skip to content
مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے جوابات کا مجموعہ

خلافت کے لیے قرشیت کی شرط

سوال: اسلام تمام دنیا کو پیغام دیتا ہے کہ سب انسان بحیثیت انسان ہونے کے برابر ہیں، گورے کو کالے پر اور عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں، اسلام کے حرم میں داخل ہوتے ہی سب اونچ نیچ برابر ہوجاتی ہے، اگر کوئی فرق رہتا ہے تو وہ بس اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ کے اصول پر رہتا ہے۔ پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہے جس کا مفہوم یہ یا اس کے قریب ہے خلافت قریش میں رہنی چاہئے۔ یہ صحیح ہے تو پھر ہٹلر ہی نے کیا براکیا اگر اپنی قوم کو تمام دنیا کی قوموں پر…

حضرت علیؓ کی امیدواری خلافت؟

سوال: جماعت اسلامی کے ارکان بالعموم موجودہ زمانہ کے جمہوری طریقوں پر جو تنقیدیں کرتے ہیں ان میں منجملہ اور باتوں کے ایک بات یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ جو شخص خود کسی منصب یا عہدے کا امیدوار ہو یا اس کا دعویدار بنے، اسلام کی رو سے وہ اس کا مستحق نہیں ہے کہ اسے منتخب کیا جائے۔ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ جو خلافت کے امیدوار یا دعویدار تھے اس کے متعلق کیا کہا جائے گا؟ جواب: حضرت علیؓ کی امیدواری و دعویداری کا قصہ دراصل ایک بڑے قصے کا جزو ہے جس…

مہر غیر مؤجل کا حکم

سوال:اگر بوقت نکاح زر مہر کی صرف تعداد مقرر کردی گئی اور اس امر کی تصریح نہ کی گئی ہو کہ یہ مہر معّجل ہے یا مؤجل تو آیا اس کو معّجل قرار دیا جائے گا یا مؤجل؟ اس مسئلہ سے استفتاء کیا گیا مگر جواب مختلف آئے۔ مثلاًچند جوابات یہ ہیں: مولانا محمد کفایت اللہ صاحب ودیگر علماء دہلی: ’’اگر مہر میں مؤجل کی تصریح بھی ہو مگر اجل مجہول بحالت فاحشہ ہو تو مہر معّجل ہوجاتا ہے اور جبکہ معّجل یا مؤجل کا لفظ استعمال نہ کیا جائے بلکہ واجب الادا کا لفظ لکھ دیا جائے تو یہ…

بندوق کے شکار کی حلت و حرمت

سوال: آپ نے تفہیم القرآن میں تکبیر پڑھ کر چھوڑی ہوئی بندوق کے مرے ہوئے شکار کو حلال لکھ کر ایک نئی بات کا اختراع کیاہے جس پر مندرجہ ذیل سوالات اٹھ رہے ہیں مہربانی فرما کر جواب دے کر مشکور فرمادیں۔ ۱۔ چاروں امام متفق ہیں کہ بندوق سے مرا ہوا شکار بوجہ چوٹ سے مرنے کے ناجائز اور حرام ہے پھر آپ نے کن دلائل کی بنا پر اس کو جائز لکھا ہے؟ ۲۔ بندوق کی گولی میں دھار نہیں ہوتی بلکہ اس کی ضرب شدید سے جانور مرتا ہے۔ کارتوسوں پرعام طور پر لکھا ہوتا ہے کہ…

نظام کفرو فسق میں کسب معاش کی مشکل

سوال: آپ کی تحریروں کو دیکھنے کے بعد میں اپنے موجودہ معاش سے بیزار ہوں لیکن کافرانہ نظام حکومت و تمدن کے ماتحت کسب حلال تقریباً ناممکن التصور ہے۔ ملازمت، کاشت کاری اور تجارت سب پیشوں میں حرام داخل ہوگیا ہے۔ پھر ہمارے لیے کون سا راستہ ہے؟

رشوت و خیانت کو حلال کرنے کے بہانے

سوال: سرکاری اہل کاروں کو جو نذرانے اور ہدیے اور تحفے ان کی طلب اور جبرواکراہ کے بغیر کاروباری لوگ اپنی خوشی سے دیتے ہیں، انہیں ملازمت پیشہ حضرات بالعموم جائز سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ رشوت کی تعریف میں نہیں آتا۔ اس لیے یہ حلال ہونا چاہئے۔ اسی طرح سرکاری ملازموں کے تصرف میں جو سرکاری مال ہوتا ہے اسے بھی ذاتی ضرورتوں میں استعمال کرنا یہ لوگ جائز سمجھتے ہیں۔ میں اپنے حلقہ ملاقات میں اس گروہ کے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں مگر میری باتوں سے ان کا اطمینان نہیں ہوتا۔

رشوت و خیانت کے متعلق چند مزید مسائل

سوال: رشوت و خیانت کے متعلق ترجمان القرآن کے ایک گزشتہ پرچہ میں رسائل و مسائل کے زیر عنوان آپ نے جن مسائل پر بحث کی ہے انہیں کے متعلق چند مزید سوالات مجھے درپیش ہیں۔ امید ہے کہ آپ ان کے مدلل جوابات سے میرے اور میرے بعض رفقاء کے شبہات کو دور فرما دیں گے۔

پیشہ وکالت اسلامی نقطہ نظر سے

سوال: میں نے حال ہی میں وکالت کا پیشہ اختیار کیا ہے اور اس پیشہ میں خاصا کامیاب ہوا ہوں، لیکن میں دیکھتا ہوں کہ ایک وکیل کو قوانین الہٰیہ کے برخلاف روزانہ قوانین انسانی کی بنا پر مقدمات لڑنے پڑتے ہیں۔ وہ اپنا پورا زور لگاکر اس چیز کو حق ثابت کرتا ہے جسے انسانی قوانین حق قرار دیتے ہیں خواہ خدائی قانون کی رو سے وہ حق ہو یا نہ ہو اور اسی طرح باطل اسے ثابت کرتا ہے جو ان قوانین کی رو سے باطل ہے خواہ قانون الہٰی کے تحت وہ حق ہی کیوں نہ ہو۔ محتاط سے محتاط وکیل بھی عدالت کے دروازے میں قدم رکھتے ہی معاً حق و باطل اور حقوق اور ذمہ داریوں کے اس معیارکو تسلیم کرتا ہے جس کو انسان کی خام کار عقل نے اپنی خواہشات نفس کے ماتحت مقرر کررکھا ہے۔ غرضیکہ ایک وکیل کفر کی اچھی خاصی نمائندگی کے فرائض انجام دیتا ہے، لیکن کوئی پیشہ بھی مجھے ایسا نظر نہیں آتا جسے اختیار کرکے آدمی نجاستوں سے محفوظ رہ سکے۔ اس دہری مشکل کا حل کیا ہے؟ میں یہ سوال اس مسافر کی طرح پوری آمادگی عمل کے ساتھ کر رہا ہوں جو پابہ رکاب کھڑا ہو۔

عالمانہ جاہلیت

سوال: ’’ایک عالم دین اور صاحب دل بزرگ خطبات اور سیاسی کشمکش (جلد ۳) پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ملازمتیں غیر اللہ کی اطاعت کی تعریف میں نہیں آتی۔ یہ تو اپنی اور اپنے اہل ملک کی خدمت ہے۔ یہ حد درجہ غلط طریق کار ہے کہ خزائن ارض پر ہندو اور سکھ بطور حاکم مسلط ہوں اور مسلمان شودر کی حیثیت میں صرف مطالبہ گزار بن کر رہ جائیں، اور ملازمت کریں بھی تو اس کی آمدنی کو حرام سمجھ کر کھایا کریں۔ میں حیران ہوں کہ ان کو کیا جواب دوں۔‘‘

کاسب حرام کے ساتھ معاشی تعلقات کے حدود

سوال:(۱) مشترک کاروبار جس میں صالحین و فاجرین ملے جلے ہوں، پھر فاجرین میں بائع خمر، آکل ربوٰ، وغیرہ شامل ہوں، اس میں شرکت کرنا کیسا ہے؟(۲) کاسب حرام سے روپیہ قرض لے کر اس سے تجارت کی جاسکتی ہے یا نہیں؟(۳)کاسب حرام کے ہاں نوکر رہنا یا اس کے ہاں سے کھانا پینا جائز ہے یا نہیں؟

Back To Top
Search