Skip to content
مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے جوابات کا مجموعہ

کیا ایک فقہی مذہب چھوڑ کر دوسرا مذہب اختیار کرنا گناہ ہے؟

سوال: ہمارے اس زمانے میں مذاہب اربعہ میں سے کسی ایک کی پابندی پہلے سے زیاد ہ لازمی ہوگئی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کوئی صاحبِ علم و فضل چار معروف مذاہب فقہ کو چھوڑ کر حدیث پر عمل کرنے یا اجتہاد کرنے کا حقدار ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کس دلیل سے؟ اور اگر جائز ہے تو پھر طحاوی میں ایک بڑے صاحب کمال فقیہ کے اس قول کا کیا مطلب ہے؟

کس قسم کا اجماع حجت ہے؟

سوال: ایسا اجماع جو کسی صحیح حدیث پر مبنی ہو واقعی شرعی حجت ہے اور ایسےاجماع کا منکر یقیناً کافر ہے لیکن ایسا اجماع جو علماء نے کسی ایسے مقصد پر کرلیا ہو جو مخبر صادق کے لفظوں سے صراحتاً ثابت نہ ہو یا کسی ایسی حقیقت سے تعلق رکھتا ہو جس کی تصریح شارع علیہ السلام نے نہ کی ہو اور اسے مصلحتاً مجمل ہی رہنے دیا ہو، کیا یہ بھی شرعی حجت کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا منکر کافر ہے؟

فرقہ بندی کے معنی

سوال: ’’آپ اپنی جماعت کے لوگوں کو سختی کے ساتھ فرقہ بندی سے منع کرتے ہیں اس ضمن میں میرا سوال یہ ہے کہ آخر صوم و صلوٰۃ و حج وغیرہ ارکان کو کسی نہ کسی مسلک کے مطابق ہی ادا کرنا ہوگا۔ تو پھر بتائیے کوئی مسلمان فرقہ بندی سے کیسے بچ سکتا ہے؟ میرا اپنا یہ خیال ہے کہ بموجب آپ کی رائے کے کہ قرآن و حدیث کے موافق جو مسئلہ ملے اس پر عمل کیا جائے۔ بجز اہل حدیث کے کسی فرقہ کے ہاں جملہ جزیات میں قرآن و حدیث سے مطابقت نہیں پائی جاتی۔ پس میں نے فی الجملہ مسلک اہل حدیث کو اپنے لیے پسند کیا ہے پھر کیا میں بھی فرقہ بندی کے الزام کا مورد ٹھہروں گا ؟‘‘

فقہی اختلافات کی بنا پر نمازوں کی علیحدگی

سوال: فقہی اختلافات کی بنا پر بعض صورتوں میں حنفی، اہلحدیث اور شافعی حضرات علیحدہ علیحدہ نماز پڑھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ مثلاً ایک گروہ اول وقت نماز پڑھنے کو ترجیح دیتا ہے اور دوسرا تاخیر کو افضل سمجھتا ہے اب ان سب کا مل کر ایک جماعت میں نماز پڑھنا کسی نہ کسی کو افضل نماز سے محروم ہی کرے گا۔ اگر ’’افضل نماز‘‘ کی کوئی اہمیت ہے تو پھر آپ کیوں اس ’’ایک ہی جماعت‘‘ کے اصول پر اتنا زور دیتے ہیں؟

اختلافی مسائل پر امت سازی کا فتنہ

سوال: ’’مجھے مذہبی تنازع اور تفرقہ سے فطری بُعد ہے اور وہ تمام جزئی مسائل جن میں اختلاف کی گنجائش خود شریعت میں موجود ہے ان میں اختلاف کو جائز رکھتا ہوں۔ اسی طرح اگر نبی کریمﷺ سے کسی معاملے میں دو یا تین طریقہ ہائے عمل ثابت ہوں تو ان سب کو جائز اور سنت کی حد کے اندر شمار کرتا ہوں۔ مثلاً نماز میں رفع یدین کرنا اور نہ کرنا میرے نزدیک دونوں برابر ہیں۔ چنانچہ میں ان دونوں صورتوں پر عمل کرلیتا ہوں، کبھی اس پر اور کبھی اس پر۔ مجھے اپنے مسلک پر پورا اطمینان ہے اور میں نے سوچ سمجھ کر اسے اختیار کیا ہے مگر میرے والد مکرم، جو جماعت اسلامی کے رکن بھی ہیں، محض نماز میں رفع یدین کا التزام چھوڑ دینے کی وجہ سے انہوں نے مجھے یہ نوٹس دے دیا ہے کہ اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی تو پھر ہمارے تمہارے درمیان سلام کلام کا تعلق برقرار نہیں رہ سکتا۔ میں نے انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ہوئی۔ اب یہ قضیہ میرے اور والد مکرم کے حلقہ تعارف میں بحث کا موضوع بن گیا ہے اور دونوں کی تائید و تردید میں لوگ زورِ استدلال صرف کر رہے ہیں۔

دو شبہات

سوال:’’میں نے پورے اخلاص و دیانت کے ساتھ آپ کی دعوت کا مطالعہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں یہ اقرار کرتا ہوں کہ اصولاً صرف جماعت اسلامی ہی کا مسلک صحیح ہے۔ آپ کے نظریہ کو قبول کرنا اور دوسروں میں پھیلانا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ میرا ایمان ہے کہ اس دور میں ایمان کو سلامتی کے ساتھ لے کر چلنے کے لیے وہی راہ اختیار کی جاسکتی ہے جو جماعت اسلامی نے اختیار کی ہے۔ چنانچہ میں ان دنوں اپنے آپ کو جماعت کے حوالے کردینے پر تل گیا تھا، مگر ترجمان القرآن میں ایک دو چیزیں ایسی نظر سے گزریں کہ مزید غوروتامل کا فیصلہ کرنا پڑا۔ میں نکتہ چیں اور معترض نہیں ہوں بلکہ حیران و سرگرداں مسافر کی حیثیت سے، جس کو اپنی منزل مقصود کی محبت چین نہیں لینے دیتی، آپ سے اطمینان حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ مشارالیہ کے مسائل کے متعلق میری گزارشات پر غور فرمائیں۔

حدیث اور فقہ

سوال: ذیل میں آپ کے لٹریچر سے چند اقتباسات دربارہ مسئلے تقلید و اجتہاد و مرتب کرکے کچھ استفسارات کئے جاتے ہیں۔ان سے صرف علمی تحقیق مقصود ہے، بحث مدعا نہیں ہے:۱۔ ’’تمام مسلمان چاروں فقہوں کو برحق مانتے ہیں۔ البتہ یہ ظاہر ہے کہ ایک معاملے میں ایک ہی طریقہ کی پیروی کی جاسکتی ہے۔ اس لئے علماء نے طے کر دیا ہے کہ مسلمانوں کو ان چاروں میں سے کسی ایک ہی پیروی کرنی چاہئے۔‘‘ (رسالہ دینیات طبع دوم ۱۲۵)

اسلامی نظام جماعت میں آزادی تحقیق

سوال: ’’تفہیمات‘‘ کا مضمون ’’مسلک اعتدال‘‘ جس میں صحابہ کرام اور محدثین کی باہمی ترجیحات کو نقل کیا گیا ہے اور اجتہاد مجتہد اور روایت محدث کو ہم پلہ قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے، اس مضمون سے حدیث کی اہمیت کم اور منکرین حدیث کے خیالات کو تقویت حاصل ہوتی ہے، یہ رائے نہایت درجہ ٹھنڈے دل سے غورو فکر کا نتیجہ ہے۔اس قسم کے سوالات اگر آپ کے نزدیک بنیادی اہمیت نہیں رکھتے تو جماعت اسلامی کی ابتدائی منزل میں محدثین و فقہا اور روایت و درایت کے مسئلہ پر قلم اٹھانا مناسب نہیں تھا۔ اس مسئلہ کے چھیڑ دینے سے غلط فہمیاں پھیل نکلی ہیں۔ اب بہتر ہے کہ بروقت ان غلط فہمیوں کا ازالہ کردیا جائے کیونکہ حدیث کی اہمیت کو کم کرنے والے خیالات جس لٹریچر میں موجود ہوں اسے پھیلانے میں ہم کیسے حصہ لے سکتے ہیں، حالانکہ نظم جماعت اسے ضروری قرار دیتا ہے۔میرا ارادہ ہے کہ اس سلسلے میں آپ کی مطبوعہ و غیر مطبوعہ تحریرں مع تنقید اخبارات و رسائل میں شائع کردی جائیں۔

احادیث کی تحقیق میں اسناد اور تفقہ کا دخل

سوال: خط و کتابت کے کئی مراحل طے ہوچکے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی اطمینان بخش صورت ظاہر نہ ہوئی۔ تاہم اس خط سے محض ایک سوال کے حل پر ساری بحث ختم ہوسکتی ہے۔ قابل غور امر یہ ہے کہ حدیث و فقہ کا ہم پلہ ہونا، اسناد حدیث میں خامیوں کا پایا جانا وغیرہ مضامین آپ کی نظر میں بنیادی ہیں یا فروعی؟اگر اصولی اور بنیادی ہیں جیسا کہ جماعت کے مستقل کتابی لٹریچر میں اس کی اشاعت سے اندازہ ہوتا ہے تو پھر کسی مخالفت کا اندیشہ کیے بغیر جماعت اہل حدیث روایت کے باب میں جو غلو رکھتی ہے اس کی اصلاح و تنقید کے لیے پورا زور قلم صرف کیجیے۔ جیسا کہ آپ نے لیگ اور کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کیا ہے۔ باقی رہا جماعت کے اندر اور باہر کا دروازہ کھل جانے کا اندیشہ تو یہ کوئی نئی بات نہ ہوگی۔ کیونکہ اب سے پہلے بھی اخبار اہل حدیث امرتسر میں ’’تصدیق اہل حدیث‘‘ کے عنوان سے اس پر تنقید ہوچکی ہے اور اب بھی ایک مولوی صاحب…… میں تفہیمات کے اقتباسات(مسلک اعتدال) سنا سنا کر جماعت اسلامی کے ہم خیال اہل حدیث افراد میں بد دلی پیدا کر رہے ہیں اور پوری طرح فتنے کا سامان پیدا ہوگیا ہے اور جماعتی ترقی میں مزاحمت ہو رہی ہے۔

جزئیاتِ شرع اور مقتضیاتِ دین

سوال: "اجتماع میں شرکت کرنے اور مختلف جماعتوں کی رپورٹیں سننے سے مجھے اور میرے رفقا کو اس بات کا پوری طرح احساس ہوگیا ہے کہ ہم نے جماعت کے لٹریچر کی اشاعت و تبلیغ میں بہت معمولی درجے کا کام کیا ہے۔ اس سفر نے گذشتہ کوتاہیوں پر ندامت اور مستقبل میں کامل عزم و استقلال اور اخلاص کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ دعا فرمائیں کہ جماعتی ذمہ داریاں پوری پابندی اور ہمت و جرات کے ساتھ ادا ہوتی رہیں۔اس امید افزا اور خوش کن منظر کے ساتھ اختتامی تقریر کے بعض فقرے میرے بعض ہمدرد رفقا کے لیے باعث تکدر ثابت ہوئے اور دوسرے مقامات کے مخلص ارکان و ہمدردوں میں بھی بددلی پھیل گئی۔ عرض یہ ہے کہ منکرین خدا کا گروہ جب اپنی بے باکی اور دریدہ دہنی کے باوجود حلم، تحمل اور موعظۂ حسنہ کا مستحق ہے تو کیا یہ دین داروں کا متقشف تنگ نظر طبقہ اس سلوک کے لائق نہیں ہے؟ کیا ان کے اعتراضات و شبہات حکمت و موعظۂ حسنہ اور حلم و بردباری کے ذریعے دفع نہیں کیے جاسکتے؟ اختتامی تقریر کے آخری فقرے کچھ مغلوبیت جذبات کا پتہ دے رہے تھے۔سوال: حالیہ اجتماع دارالاسلام کے بعد میں نے زبانی بھی عرض کیا تھا اور اب بھی اقامت دین کے فریضہ کو فوق الفرائض بلکہ اصل الفرائض اور اسی راہ میں جدوجہد کرنے کو تقویٰ کی روح سمجھنے کے بعد عرض ہے کہ "مظاہر تقویٰ" کی اہمیت کی نفی میں جو شدت آپ نے اپنی اختتامی تقریر میں برتی تھی وہ نا تربیت یافتہ اراکین جماعت میں "عدم اعتنا بالسنتہ" کے جذبات پیدا کرنے کا موجب ہوگی اور میں دیانتہً عرض کرتا ہوں کہ اس کے مظاہر میں نے بعد از اجلاس ملاحظہ کیے۔ اس شدت کا نتیجہ بیرونی حلقوں میں اولاً تو یہ ہوگا کہ تحریک کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جائے گا۔ کیوں کہ اس سے پہلے بھی بعض داعیین تحریک نے "استہزابالستنہ" کی ابتدا اسی طرح کی تھی کہ بعض مظاہر تقویٰ کو اہمیت دینے اور ان کا مطالبہ کرنے میں شدت اختیار کرنے کی مخالفت جوش و خروش سے کی۔ دوسرے یہ کہ شرارت پسند عناصر کو ہم خود گویا ایک ایسا ہوائی پستول فراہم کردیں گے جو چاہے درحقیقت گولی چلانے کا کام ہر گز نہ کرسکے مگر اس کے فائر کی نمایشی آواز سے حق کی طرف بڑھنے والوں کو بدکایا جاسکے گا۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے معاملات میں عوام کے مبتلائے فتنہ ہوسکنے کا لحاظ رکھا ہے۔ چنانچہ بیت اللہ کی عمارت کی اصلاح کا پروگرام حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے محض قوم کی جہالت اور جدید العہد بالاسلام ہونے کے باعث ملتوی کردیا تھا اور پھر اتنی احتیاط برتی کہ کبھی کسی وعظ اور خطبے میں لوگوں کو اس کی طرف توجہ تک نہیں دلائی، بجز اس کے کہ درون خانہ حضرت عائشہ صدیقہؐ سے آپ نے اس کا تذکرہ ایک دفعہ کیا۔

Back To Top
Search